کڑوا سچ

 کے الیکٹرک  آفس کے سامنے ایک شخص کیلے بیچ رہا تھا
کے الیکٹرک  کے ایک بڑے افسر نے پوچھا کیا درجن دیتے ہو؟ 

کیلے والے نے کہا کیلے کس کے لئے خرید رہے ہو صاحب؟
افسر۔ کیا مطلب ؟

کیلے والا :
مطلب یہ کہ
گھر پر جا کر کھاؤ  گے تو ایک درجن کے  100 روپیہ دو درجن کے تین سو روپے اور تین درجن کے پانچ سو روپے۔
 آفس  کے لئے لے رہے ہو تو ایک درجن کے 150 روپیہ  دو درجن کے 400 روپے اور تین درجن کے 700 روپے۔
دوکان پر کھانے کے لئے ایک درجن کے 200 روپیہ دو درجن کے 500 روپے اور تین درجن کے 800 روپے۔
اگر پکنک کے لئے خریدنے ہوں تو ایک درجن کے  250 روپیہ دو درجن کے 600 روپے اور تین درجن کے 1000 روپے۔

افسر یہ کیا بیوقوفی ہے؟
ارے بھائی جب سب کیلے ایک جیسے ہیں تو ریٹ الگ الگ کیوں؟

کیلے والا:
پیسے کی وصولی کا اسٹائل تو آپ لوگوں والا ہی ہے 
جیسے 
1 سے 100 یونٹ کا الگ ریٹ
100 سے 200 کا الگ
200 سے 300 کا الگ
300 سے 400 کا الگ

بجلی تو آپ ایک ہی کھمبے سے دیتے ہو ؟
تو پھر گھر کے لئے الگ ریٹ
دکان کے لئے الگ ریٹ
کارخانے کا الگ ریٹ

اور ایک بات۔۔ اور میٹر کی قیمت ہم سے لیکر پھر میٹر کا کرایہ الگ لیتے ہو۔۔۔انکم کے الیکٹرک  کو ہوتی ہے اور انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ہم سے الگ لیتے ہو
سرچارج اور ایکسٹرا سرچارج کیا بلا ہے جو ہم سے لیتے ہو؟ 

میٹر کیا امریکہ سے امپورٹ کیا ہے 25 سال سے میٹر خرید کر بھی اس کا کرایہ بھر رہا ہوں ۔۔۔آخر میٹر کی قیمت کتنی ہے؟  آپ بتا دو مجھے ایک ہی بار


اسی طرح سوئی گیس والوں نے بھی اندھیر مچائی ہوئی ہے۔ 

Comments